Thursday, September 1, 2011

                                                               اوکاڑہ کا تعارف
             اوکاڑہ پنجا ب پا کستان  کا ایک ضلع ہے ۔ جی ٹی روڈ اوکا ڑہ کو لا ہور سے ملا تی ہے جو کہ110کلو میڑ کا فاصلہ ہے اوکا ڑ ہ ساہیوال شہر سے 40کلو میڑ دور ایک چھو ٹے سے قصبہ سے شروع ہو ا۔ بعد میں یہ پو راشہر بن گیا ۔1998کی مردم شماری کے مطابق اس ضلع کی آبا دی 22لاکھ 32ہزار 9سو بانوے نفوس پر مشتمل تھی جس میں سے222 12.84 شہری آبادی تھی ۔اوکا ڑہ کا پوسٹل کو ڈ 56300ہے ۔
1.            تاریخ :
                         اوکا ڑہ کے علا قہ انڈیس ویلی تہذیب(Indus valley civilization)کے دور میں کا شتکاری اور جنگل والا علاقہ تھا ۔وید کے دورمیں ہندی آریہ) (Hindu Aryaکی تہذیب کی جھلک پا ئی جا تی تھی جس نے وسطی ایشیا سے اٹھ کر ادھر حملہ کیا اور پنجا ب کے علا قہ میں آبا د ہو گئے ۔کمبوجا ،درداکا ئی کا یا ،مدراس،پاؤروس (paurvas)،یو دھی ویاس ، ملاداس ، سیندھا واس اور کو روس (kurus)نے حملہ کیا ،آبا د ہو ئے اور قدیم پنجا ب پر حکمر انی کی۔ بعدازاں 331 عیسوی میں Achaemenidکی حکو مت کو کچلنے کے بعد سکندراعظم نے مو جو دہ دور کے پنجا ب میں50,000افراد کی فوج کے ساتھ یلغارکی ۔اس کے علا وہ اوکاڑہ پر موریا ،بندی یو نانیCindo Greek ،کشنKushan ، گپتا،سعید ہنز(White Huns)،Kushano Hephthalitesنے حکومت کی 997عیسوی میں سلطان محمود غزنوی نے غزنوی حکو مت کا تخت سنبھا لا جو کہ اس کے والد سبکتگین نے قائم کیا تھا ۔1005 ء میں اس نے کا بل میں شاہی خاندان کاتختہ الٹایا ،اس کے ساتھ ہی اس کی فتوحات کا سلسلہ شمالی پنجا ب تک پھیل گیا۔اس کے علا وہ اس علا قہ پر دہلی اور مغلیہ خاندانوں نے بھی حکومت کی ۔صوفیا ء کی وجہ سے پنجا ب کے اکثر علا قے مسلما نو ں کے تھے کیو نکہ پنجا ب میں صوفیا ء کی کثر ت سے درگاہیں تھیں۔

مغلیہ خاندان کے تنزل کے دور میں سکھوں نے اس علا قہ پر حملہ کیا اور ساہیوال پر قبضہ کر لیا ۔سکھوں کے دور میں مسلمانوں بہت سخت پا بندیو ں کا سامنا کیا۔انگریزوں کے دورمیں جہا ں آج شہر بنا یا گیا ہے یہا ں اس وقت اوکا ن Okanنا می جنگل ہو ا کر تاتھا ۔اوکا ڑہ کا لفظ دراصل لفظ اوکا ن سے نکلا ہے ۔ (Okanایک درخت ہے )جو سرسبزہوتا ہے اوکا ن درخت سے اوکا ں والی(Okanwali)یعنی ’’سر زمین اوکا ن ‘‘نکلا جو آخر کا ر اوکا ڑہ بن گیا ۔یہ شہرنسبتاًزرعی شہر ہے۔انگریزوں کے دور میں یہ علا قہ منٹگمری (Montgamery)سے ملحق تھااو رادھر پھٹکری (saltpeter)کی ایک بڑی ریفائنری بھی تھی۔تقسیم ہند کے دوران وہ کا رخانے جو پا کستا ن کے حق میں آئے ان میں سے ایک اوکا ڑ ہ میں تھا ۔اس مِل کا نا م ستلج ٹیکسٹائل مِل تھااور Adita Birla Groupکی ملکیت تھا۔اُس دور میں وہ ایشیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مِل تھی۔1982ء میں یہ شہرضلع اوکا ڑہ بن گیا ۔ اوکا ڑہ میں ریلوے 1892ء سے موجو د ہے ۔
ضلع اوکا ڑہ پہلے ضلع منٹگمری کا حصہ تھا جس میں پا ک پتن ،ساہیوال اور اوکا ڑہ کے اضلا ع شامل تھے ۔اس علا قہ میں مسلمانوں کی اکثریت نے مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی حمایت کی 1947ء میں پاکستان کے آزاد ہو نے کے بعد ہندو اور سکھ اقلیت بھا رت چلے گئے جبکہ مسلمان مہا جرین بھا رت سے آکر ضلع اوکا ڑہ میں بھی پنا ہ گزین ہوئے تھے ۔
2.             زراعت:
                         ضلع اوکا ڑہ اپنی زرخیز زمین ،پر فضا ما حول ،آلوؤں ،ٹماٹر وں،گنوں ،گندم،چاول،گاجر،مولی اور مکئی کی سرسبز فصلوں کی وجہ سے مشہور ہے ۔ادھر کے مالٹوں اور آموں کے با غات مشہو رہیں ۔اس کے علا وہ یہاں انڈس تہذیب، فارسی ، سلطانی ، مغلیہ ،سکھ اور انگریز راج کے آثاروکھنڈرات پائے جا تے ہیں ۔

ضلع اوکاڑہ کے وسط میں مرکزی Ridge واقع ہے جو کے دریائے بیاس کے پرانے راستے کو ظا ہر کرتا ہے اور ضلع کے مشرقی اور مغربی نصف کے درمیان boundary ہے یہ Ridge قصور سے نکل کر چنیاں سے گزرتے ہوئے اوکاڑہ میں شیر گڑھ میں جاتی ہے۔جیسے جیسے Ridge کے مغرب میں جائیں گے تو زیر زمیں پانی قدرے نمکین ہوتا جائے گا اسی وجہ سے یہ علاقہ آب پاشی کے لیے نہروں پر منحصر کرتا ہے بہرحال جیسے Ridgeسے تحصیل دیپال پور میں جائیں گے تو زیر زمین پانی میٹھا ہو گااور زراعت کے لیے موذوں ہوگا۔
ضلع اوکاڑہ لیموں ، امرود ، اور گریپ فروٹ کے باغات کے لحاظ سے بھی مشہور ہے یہ باغاتMitchells Fruit Farms Limited کی ملکیت ہیں یہ باغات 6 میل میں پھیلے ہوئے ہیں جو رینالا خرد سے LBDC کے ساتھ ساتھ اوکاڑہ بائی پاس تک جاتے ہیں۔
3.             زبان:۔
                        اس ضلع کے اکثردیہاتی اور شہری لوگ پنجابی بولتے ہیں جیسا کہ شہری آبادی کی اکثریت بڑے قصبوں ، رینالہ خورد کے قصبوں یا ارد گرد کے علاقوں کے لوگ جو یہاں آکر آباد ہوئے، پر مشتمل ہے اور ان میں سے اکثر آرائیں اور رنگڑھ قومیں ہیں ۔ بہر حال لاہور ملتان راستے سے ہٹ کر راجستانی لہجہ شرو ع ہو جاتا ہے جس میں سرائیکی کا اثر لاہوری لہجے سے زیادہ ہے ۔ اور یہ زبان ان کی اصل زبان مانی جاتی ہے ۔ اس وقت سے جب اس علاقے میں نہری آب پاشی ایک مشکل کام ہوا کرتا تھا اور لوگوں کا ذیادہ تر پیشہ مویشیوں کو چرانا تھا دریائے راوی اور ستلج کے کنارے پر یہ زبا ن راوی کے علاقوں یعنی گدجرہ ، ستگرہ اور موضع میرک جیسے بڑے بڑے قصبوں میں بولی جاتی تھی جن میں جوئیہ، کھرل، بلوچ، کاتھیہ، کمیانہ اور جکھر قوم کے لوگ آباد ہیں ۔ اسی طرح دیپالپور کے گرد ستلج کے علاقے جن میں شیر گڑھ ، حجرہ شا ہ مقیم ، حویلی لکھا وغیرہ کے علاقے ہیں ان میں وٹو ، بودلا، بلوچ، بھٹی اور حریرہ قومیں آباد ہیں اور دیگر قومیں مٹیلا میں آباد ہیں۔
4.             مویشی، لایؤ سٹاک :
                                     اوکاڑہ مویشیوں کی نسل نیلی راوی اور ساہیوال کی وجہ سے بھی مشہور ہے ۔ یہ علاقہ مویشیوں اور ان سے تیار ہونے والی اشیاء سے بھرا پڑا ہے۔ Livestock production research institute) Bahadar Nagar Farm) لائیو سٹاک پروڈکشن انسٹیٹوٹ بہادر نگر فارم حکومت کا بہت بڑا فارم ہے جو اوکاڑہ شہر کے قریب واقع ہے ۔ اس فارم پر کا فی بڑی تعداد میں گائیں ، بھینسیں ، سانڈھ (تولید کیلئے)بکریاں اور بھیڑیں موجود ہیں ۔
5.             انفرا سٹرکچر:
                         اوکاڑہ میں تمام بنیادی جسمانی اور تنظیمی ادارے ، سروسز اور دیگر سہولیات جن کی ایک شہر میں ضرورت ہوتی ہے ، موجود ہیں ۔ضلع اوکاڑہ میں دو سٹیڈیم موجود ہیں ان میں کھیلوں کیلئے ایک میں فٹ بال گراؤنڈ ، باسکٹ بال کورٹ اور سوئمنگ پول موجود ہیں ۔ اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں ایک بین الاقوامی ہاکی سٹیدیم کی تعمیر جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے یہ سٹیڈیم ملک میں ہاکی کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

اوکاڑہ میں بہت سے چھوٹے اور بڑے عوام کیلئے تفریحی پارک بھی موجود ہیں تین اہم اور بڑے پارکوں میں باغ جناہ،Ladies park, district parkہیں ۔ تعلیمی اداروں میں ایجو کیشنل یونیورسٹی( Education univeristy)کیڈٹ کالج ،( Cadit college)گونمنٹ کالج لڑکوں کے لئے ،خواتین کے لئے دو گورنمنٹ کالج ہیں ادھر بہت سے پرائیویٹ سکول اور کالج بھی ہیں جن کو قومی سطح پرتسلیم کا جا تا ہے ۔عمارتیں اچھی تعمیر کی گئیں ہیں ، کشادہ ہیں اور تعلیمی لحاظ سے انکا اعلیٰ معیار ہے The District Public School and College اوکاڑہ شہر کا بلکہ صوبہ اور ملک کا نامورادارہ ہے ۔ان اداروں میں Mordern Science، کمپیوٹر لیبز ،لا ئبریریز اور کھیل کے میدان اور کینٹینں شامل ہیں۔
اور بھی دیگر عوامی اور نجی ہسپتال اور کلینک جو صحت کے متعلق خدمت بجا لا رہے ہیں مشہور اورجدید مشینوں سے آراستہ ہیں۔ان ہسپتالوں میں District Goverment Hospital,Shareef Surgical Hospital اورC.M.H Okara Cantقابلِ ذکر ہیں۔اوکا ڑہ میں سول ویلفئیر ہیلتھ سوسائٹی بھی قائم ہے جوکہ پنجا ب گورنمنٹ کے تحت کام کررہا ہے ہر ہسپتال کے پاس دو سے زائد ایمبو لینسیں ہیں رحیم پور کے گاؤں میں واقع
Rosary Christian Hospital اوکا ڑہ اوراس کے گردو نواح میں میڈیکل کی سہولیا ت مہیا کر تا ہے ۔

Rescue 1122جو کہ حکومتی تنظٰم ہے وہ بھی اوکاڑہ شہر میں اپنی خدمات پیش کررہی ہے۔ شہر کے مرکز میں ایک علیحدہ فائر سٹیشن بھی ہے جس میں کئی پرانی اور بعض جدید طرز کی آگ بجھانے والی گاڑیا ں حفاظتی سہولیا ت کے ساتھ میسر ہیں۔

اوکاڑہ میں ایک وسیع ریلوے اسٹیشن بھی ہے جہاں کئی پلیٹ فارم ہیں جن پر کئی ٹرینیں اسلا م آباد سے کراچی تک سفر کر تی ہیں ۔شہر میں دو زیرزمیں شاہرائیں اور ایک فلا ئی اوور بھی ہے جو ٹریفک کو رواں دواں رکھتا ہے ۔
31مئی 2005ء کو سابق صدر جنر ل پرویز مشرف نے GT Road CN5پر12.5کلومیٹر لمبے بائی پا س کا افتتاح کیا ۔یہ منصوبہ 5ستمبرکو لوگوں کی درخواست پر شروع ہو ا اوراسکی تکمیل پر 628.17ملین روپوں کی لا گت آئی۔یہ Interchangeہا ئی وے پرٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں کافی ود مندثابت ہو ا۔یہ با ئی پا س کراچی ،لا ہور اور پشاور نیشنل ہا ئی وے کو ملا تا ہے جوکہ پا کستان کی جا ن ہے ۔


                                                                    گردونواح:۔
 گردونواح میں موجو د شہروں میں ساہیوال ،پاک پتن ،دیپالپور،بشیر پور،رینالہ خورد اور حویلی رکھا شامل ہیں۔ادھر ایک مشہور صوفی حضرت سید بشیر حسین شاہ گیلانی کا مقبرہ بھی ہے جو ایک گاؤں 47/2Lراجپتن سے صرف 10منٹ کے راستے پر دیپال پور روڈ اوکا ڑہ میں واقع ہے۔دیپالپورسے 25کلومیڑکے فاصلہ پر حویلی لکھا ہے ۔حجرہ شاہ مقیم روڑ پر ایک مشہور صوفی کا مزار ہے جن کا نام بابا ولی روشن شاہ ہے جوکہ بنگاصالحہ میں واقع ہے ہر سال کی ہَر((Harrدیسی مہینہ کی ستائیسویں کو ادھر ایک میلہ دھوم دھام سے منا یا جا تا ہے ایک اور مشہور مقبر ہ دیپال پور کے نزدیک حضرت سید داؤد بندگی کرمانی کا ہے جوشیر گڑھ میں واقع ہے جو کہ دیپالپور سے 12میل اور حجرہ شاہ مقم7 میل کے فاصلہ پر ہے۔ آپ کا عر س مارچ کے وسط میں منا یا جا تاہے ۔جس میں پورے پنجا ب سے اور دیگر علا قوں سے ہزاروں لوگ شریک ہو تے ہیں ۔اوکا ڑہ شہر کے مغرب میں دریا ئے راوی بل کھا تا ہو فیصل آباد اور شیخوپورہ کے اضلا ع کے کنا روں سے گزرتا ہے۔

اس ضلع کے اہم قصبے مندرجہ ذیل ہیں :دیپالپور ،اوکاڑہ،رینالہ خورد ۔
اور چھوٹے قصبوں میں یہ علا قے شامل ہیں اختر آباد،بامابالا،باما کوہلہ ،بشیر پور ،چک پاک ،گوجرہ ،حویلی لکھا ،کرمان والا ،حجرہ شاہ مقیم،جبوکہ ،موضع میر ک،جندراکہ ،لا شاریاں،منڈی احمدآبا د اور بھیلا گلا ب سنگھ وغیرہ۔
1.           رینالہ خورد:۔
 رینالہ خورد صوبہ پنجاب کے شمال مشر میں ضلع اوکاڑہ کا ایک ترقی کرتاہوا ہر ہے ۔رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کی انتظامی لحاظ سے تحصیل ہے ۔سطح مندر سے اس کی بلندی اندازاََ57فٹ یا 170میڑ ہے یہ لا ہور سے 117کلومیڑ سے10 کلومیڑ جنوب مغرب لا ہورکی طرف نیشنل ہا ئی وے GT Roadپر واقع ہے جہا ں سے لا ہور، کراچی ریلوے لائن بھی گزرتی ہے۔یہ شہر ایک مشہور پھلوں کے باغات جو لو ئرباری دوآب نہر اور ملتان روڑ کے چاول کی پیداوار کی وجہ سے بھی مشہور ہے یہ فصلیں لوئر باری دوآب نہر اور دیگر چھوٹی نہروں کے وافر پانی کی وجہ سے اگائی جاسکتی ہیں۔

رینالہ خوردمیںRenala Hydro Power Stationکی بھی سیر کی جا سکتی ہے جوکہ نہر لوئر باری دوآب پر واقع ہے ۔اس کی گنجائش ایک میگ واٹ ہے ۔سرگنگا رام (1861.1927)جوکہ ایک سول انجینئر اور Philanthropistتھے رینالا ہائیڈرل پاور اسٹیشن 1925ء میں قائم کیا ۔ 1873ء میں P.W.Dپنجا ب میں تھوڑے عرۃ کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو عمل فارمنگ کیلئے وقف کر دیا ۔انہوں نے گونمنٹ سے پچاس ہزارایکٹر کی ضلع منٹگمری میں بنجرزمین لی اور تین سال کے اندر اس بنجر زمین کو سرسبز کھیتوں میں تبدیل کر دیا۔ جسکوپانی HydroelectricPlant کے ذریعے سے دیا جا تاتھا اور ہزاروں میں آبپاشی کے نالے اپن خر پر تعمیر کروائے ۔یہ اپنی طرز کاسب سے بڑا منصوبہ تھا۔جو ملک کواس سے پہلے کبھی نہ سوجا تھا ۔سرگنگا رام نے کروڑوں روپے کمائے جس میں سے اکثر خیرات میں دے دیا ۔Sir Malcolm Hailey کے الفاظ میں جواس وقت پنجا ب کے گورنر تھے یہ کہا ’’وہ ایک ہیرو کی طرح کی فتح یا ب ہوئے اورصوفیا ء کی طرح خرچ کیا‘‘۔
رینالہ خورد کیایک یہ بات بھی ہے کہ اس کی زمین میں میٹھے پانی کی قلت ہے ۔اس علا قے کے لوگ نہری پانی پر انحصار کر تے تھے جوکہ اس وقت آبپاشی کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ ٹیوب ویل وغیرہ نمکین پانی دیا کرتے تھے جوصرف زرخیز زمین کو آباد کرتاتھا۔
تہذیب:۔
                         یہ علا قہ اپنی تہذیب اور تمدن کی عکا سی کر تاہے ۔ساون میں میلے ان اطوار میں سب سے نما یا ں چیز ہیں جس میں مختلف اقسام کی کھیلیں ڈھول کی تھا پ پر پیش کی جا تی ہے اورمٹھا ئیوں اور کھلونوں کی دکا نیں سجا ئی جا تی ہیں ۔ادھر کی آبادی پیشہ کے لحاظ زراعت پر انحصار کر تی ہے، اگرچہ لو گوں کی کا فی تعداد فکٹریوں اوردفتروں میں بھی کا م کرتی ہے اور دودھ کی مصنوعات اور پھلوں کی مصنوعا ت ا س علاقہ کی خاص علا مت ہے ۔
2.            شیر گڑھ: 
                         شیر گڑھ کے لغوی معنی شیر کی کچھار ہے۔ یہ قصبہ رینالہ خورد سے 10میل کے فاصلے پر حجرہ شاہ مقیم روڈپر واقع ہے اور دیپال پور تحصیل کا یونین کونسل ہے۔ یہ قصبہ کافی تاریخی اہمیت کا حامل ہے 16صدی عیسویں میں ملتان کے گورنر فتح جنگ خان نے اس شہر کا نام انڈیا میں افغان بادشاہ شیر شاہ سوری کے اعزاز میں رکھا گیا۔یہ حقیقت عباس خان سردنی نے اپنی کتاب ’’تاریخ شیر شاہ سوری‘‘ میں درج کی۔

اس قصبے کا آغاز ایک چھوٹے پولیس سٹیشن سے ہوا۔جس کو چور چوکی یا پولیس اسٹیشن کہتے تھے ۔ دس سا ل کے بعد 1545میں ایک نو جوان تھا جس کا نام ابرا ہیم تھا جو کہ جنوبی ایرا ن کے علاقے کرمان کا با شندہ تھا ست گھر ا سے ادھر منتقل ہو گیا ۔ صوفیا ء کے ایک سلسلہ قادریہ میں شیخ حامد گیلانی کے ہاتھ پر داخل ہونے کے بعد اس نے اپنی خانقاہ ایک دور دراز گاؤں میں بنائی اس زمانے میں یہ جگہ بہت کم آباد تھی ، بیاس کی اونچی جگہ پر واقع تھی جو نیلی اور گنجی کے درمیان جغرافیائی سرحد بناتی ہے ۔ اس کو دونوں جانب سے جنگلات نے گھیرا ہوا ہے اور دریائے راوی اور ستلج سے برابر کی مسافت پر واقع ہے اور یہ علاقہ بڑی شاہرا ہ جو لاہور اور ملتان کو ملاتی ہے اس سے
بھی بہت دور واقع ہے ۔ یہ باتیں انسان کے لئے ایک زبردست جگہ بناتی ہیں جہاں وہ اکیلا رہ کر عبادت کر سکے ۔ اس شخص (ابراہیم ) نے اپنی زندگی کے بقیہ تیس سال یہیں گزارے اور یہ بات بھی لکھی گئی ہے کہ بعض اوقات وہ شخص مراقبہ کے لئے شیر گڑھ اور ستگرہ کے درمیان واقع جنگل میں چلا جایا کرتا تھا ۔ وہ کئی کئی دنوں تک ادھر ٹھرا رہتا یہاں تک کہ اس کے قریبی دوست اور رشتہ دار اس کو گھنے جنگل میں تلاش کرتے اور اس کو گھر واپس لے جاتے ۔
پس جیسے ہی اس مقدس آدمی کی روایات لوگوں کے کانوں میں پڑنے لگیں تو یہ چھوٹا سا مرکز شیر گڑھ مذہبی اثرورسوخ قائم کرنے لگا پورے ملک سے کئی لوگ اس مقدس آدمی سے روحانی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آنے لگے ۔ 1572ء میں بادشاہ اکبر کا مشہور مورخ عبدالقادر بداؤنی اس راہب کے متعلق کہانیا ں سننے ادھر آنکلا اس نے اپنی کتاب منتخب التواریخ میں لکھا ہے ’’ کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے شیخ کے پاس کم زائرین دیکھے ہوں اور اس کے ہاتھ کلمہ پڑھتے ہوں ‘‘۔ یہ بات بھی مشہور ہے کہ شیخ نے 35,000افراد کو مشرف با اسلام کیا ان میں 365اس کے مرید بھی شامل ہیں ۔ اس نے کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن اس کی شاعری اس کی اولاد میں معروف ہے۔ اس نے اپنے مرید شاہ ابو التمولی ( جو اس کا بھتیجا اور داماد بھی تھا) منع کر دیا کہ وہ اس کے متعلق کچھ لکھے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے دنیاوی دولت، لیاقت ، طاقت ، مادیت اور شہرت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھااس صوفی کی وفات 1575میں ہوئی اور اس کے جانشین نے اس کی قبر پر ایک وسیع اور خوبصورت مزار تعمیر کروایا ۔ 1580میں اس کا گنبد بنایا گیا یہ مزار شیرگڑھ کی ایک پہچان ہے اور اس کو دور سے بھی دیکھا جا سکتا ہے یہ باہر سے عظیم اور اندر سے خوبصورت اور دلکش ہے جس پر خطاطی اورنقشی طرز کی ٹائیلوں سے مزین کیا گیا ہے اس مزار میں مزید سات سے آٹھ قبریں موجودہیں جو گدی نشینوں کی ہیں جن میں ان کا اپنا بیٹا عبداللہ نورنگ نور اور اولاد میں سے سعید مصطفی بابتا علی شاہ ، سید ابو البقا محمد ، پیر نادر علی شاہ ، پیر محمد حسین اور بہت سے دیگر افراد شامل ہیں ۔ اور وہ افراد بھی جو شیخ قریبی اور اس کے خاندان کے تھے شامل ہیں ۔ شیخ کی اولاد میں سے ایک مشہور شخص جو مزار کے باہر مدفون ہے جس کا نام محمد جعفر شاہ ہے انڈین المپک ٹیم کا ہاکی کا کھلاڑی تھاجس نے دو گولڈ میڈل جیتے تھے۔

آج کے زمانے میں یہ قصبہ بیس سے پچیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں ۔ شیر گڑھ میں چھے قصبوں کی شاہراہیں ملتی ہیں جن میں اختر آباد 7میل کے فاصلے پر چونیاں 17میل کے فاصلے پر دیپالپور12میل کے فاصلے پر حجرہ شاہ مقیم 7میل کے فاصلے پر رینالہ خورد 10اور دان دھا رام 11میل کے فاصلے پر ہیں۔بیاس کی پرانی تحزیب اسی طرح قائم ہے اور زراعت کا کام دونوں جانب کیا جاتا ہے۔ مغربی کنارہ اور قصبہ آب پاشی کے لیے نہری پانی پر گزارا کرتا ہے کیوں کہ یہا ں کا زیر زمین پانی نمکین ہے مشرقی حصہ کا پانی میٹھا ہے اور زراعت کے لئے موزوں ہے اس لیے زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اہم فصلوں میں چاول ، مکئی ، آلو اور کپاس شامل ہیں ۔ ہر سال یہ قصبہ اپنی طرف سیاہوں ، آرٹسٹ اور خطاطوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی مریدوں کوبھی ۔ یہ علاقہ مارچ کے مہینے میں کافی پر رونق ہو تا ہے اور لوگ پنجاب اور اس سے پرے کے علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں شیخ کے سالانہ عرس کے لیے اس علاقے کی طرف آتے ہیں۔

3.            کرمانوالہ شریف:۔
                         صوفی درگاہ مزار شریف کرامان والا کا ہے جس کو دربار مبارک بھی کہتے ہیں یہ جی ٹی روڈ اوکاڑہ پر رینالہ خورد کی طرف لاہور جانے والی شاہرہ پر واقع ہے مزار کو پہلے آستانہ کرمانوالا شریف کہا جاتا تھا درگاہ کے ساتھ ایک جامع مسجد بھی ہے دونوں کی تعمیر سید محمد علی شاہ بھکری نقشبندی کی نگرانی میں ہوئی اور یہ ان کے مرشد و والد سید محمد اسماعیل علی شاہ بھکری نقشبندی صاحب (وفات27رمضان 1387ہجری )کے اعزاز میں کی گئی جن کو ان کے مرید ادب سے حضرت صاحب پاک کرمانوالا کہا جاتا ہے۔
عرس کی تاریخ:
                         ان کا عرس ہر سال 26,27,28 فروری کو اسلامی مہینوں کے مطابق ربیع الاول کی 10,11,12 

تاریخ کو منعقد ہوتا ہے اس کے علاوہ 10محر م کو اہل بیت کا ختم اور رمضان میں اعتکاف وغیرہ کیا جاتا ہے۔
4.            ستگھرہ:
 ستگھرہ ایک قصبہ ہے اور ضلع اوکاڑہ کی یونین کونسل یہاں بلوچ ہیرو میر چکر رندکا مقبرہ بھی ہے اس کی بلندی سطح سمندر سے 164میٹر یا 541فٹ ہے اس کی اولاد میں سے بہت سے اور بلوچ قوم کے لوگ آباد ہیں نصف سے ذیادہ آبادی سید ہیں ان کے ہاں خاندانی قبرستان بھی ہے جہاں ان کے عظیم روحانی راہنما جن میں سید قائم علی شاہ جیلانی جن کو پیر بوریاں والا بھی کہتے ہیں مدفون ہیں یہ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم بغداد کی اولاد میں سے ہیں اور ستگھرہ میں ان لوگوں کے سربراہ تھے سید احمد شاہ جیلانی ان کے بڑے بیٹے تھے ۔ سید شمس الدین حسین جیلانی ، سید علی بہادر جیلانی ، سید شیر شاہ جیلانی اور سید خادم حسین جیلانی (پیر صاحب) بھی ادھر آرام کی نیند سو رہے ہیں ان کے مزار قبرستان میں تعمیر کیے گئے ہیں اور دور کے فاصلے سے بھی نظر آتے ہیں اینٹوں کے ملبے کا ڈھیر ستگھرہ میں بھولے ہوئے شہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں دو سکے جو ستگھرہ میں سے دریافت ہوئے ہیں ثابت کرتے ہیں کہ یہ جگہ کشن (kshan)خاندان کے زمانے میں آباد ہوئی تھی ۔

اس شہر کا نام ستگھرہ کے بارے میں مانا جاتا ہے یہ لفظ ست یعنی سات گھرہ یعنی گھر ، سات گھر سے نکلا ہے ایک اور کہانی اس کے متعلق یہ بیان کی جاتی ہے کہ سکندر اعظم کے کچھ زخمی فوجی یہاں پناہ گزین ہوئے اور انہوں نے اس قدیم قصبے کو اپنے شہر stageriaکے نام پر رکھا جو بگڑ کر ستگھرہ بن گیا ۔
5.            اخترآباد :۔
 اخترآباد ضلع اوکاڑہ کے قصبوں میں سے ایک قصبہ ہے جو کہ نیشنل ہائی وے (ملتان سے لا ہور)پر واقع اوکاڑہ شہر سے 25کلو میڑ دور واقع ہے اس قصبہ کی شکر منڈی پورے پاکستان میں مشہورہے ۔گجر ،راجپوت ،آرائیں اورکھوکھر اس علاقہ کی اہم قومیں ہیں ۔
6.            ٹھٹھہ غلامکاڈہروکا:۔
اوکا ڑہ سے اوکاڑہ فیصل آباد روڑ پر ایک گاؤں ہے جس کا نا م ٹھٹھہ غلا مکا ڈہر وکا ہے ۔اس گاؤں سے گزر کر آپ گوجر ہ سے گزریں گے جہا ں رائے احمد خان کھر ل جنگ آزادی 1857ء میں مشہور جیل سے بھا گا تھا اور انگریز لا رڈ بر کلے Berkleyکو مقامی مزاحمت کا روں نے اسے شکست فاش دی اور قتل کر دیا ۔

اس گاؤں کا منفرد مقام بین الاقوامی شہرت گڑیوں کی وجہ سے ہے اور وہ کھلو نے جو دیہا تی عورتیں تیا ر کر تی ہیں پو ری دنیا میں ان کی مانگ ہے ادھر کی تیار شدہ گڑیاں بین الاقوامی گڑیوں کے میوزیم تک گئی ہیں جوایمسڑڈیمAmsterdam  میں  ہے اوران کو تھیم پارک THemeparkمیںExppo2000نمائش جوHanoverجرمنی میں واقع ہے میں بھی پیش کیا گیا ۔دنیا کی 767پروجیکٹ میں اکیسویں صدی کی سوچ کی مثال پیش کرتے ہیں ۔اس سے پہلے ان گڑیوں کو بین الاقوامی کھلو نوں کی نما ئش جو Norembergeمیں ہو ئی پیش کیا گیا تھا ۔یہ گڑیا ں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تہذیب کو کس طرح فنکا ری سے پر ے لے کر جا یا جا سکتا ہے ۔موضع اکبر عظیم مغل با دشاہ اکبر کے نا م پر رکھا گیا ہے ۔ست گڑا بلوچ رہنما میر چکر رنڈ کے زمانہ میں اہم مقام رہا ۔